Dil ki baate🫀
تیری آنکھوں کی سہولت ہو میسر جس کو
وہ بھلا چاند ستاروں کو کہاں دیکھے گا
روبرو عشق ھو اور عشق بھی ترے جیسا
🫠🫠پھر وہ دل کے خسارے کو کہاں دیکھے گا
(Aik or arz):
تجھے غزل ایک نایاب لکھوں
چند اشعار نھیں تجھ پر کتاب لکھوں
خود کو لکھوں ایک الجھا سوال
تجھے سلجھا ہوا جواب لکھوں
میں ھو ایک بےجان حقیقت
تجھے ایک مہنگا خواب لکھوں
لکھوں خود کو ھر دل بیزار سا
پھر تجھ کو خوش نما احساس لکھوں
ایک ترے علاؤہ کوئی دکھتا نھیں مجھے
ایک یہ عادت خراب لکھوں
تیری آنکھوں کی تو کیا ھی بات کروں
تجھے دیکھتے خود کو خوش قسمت لکھوں
(Aik last):
کبھی لفظ بھول جاؤں کبھی بات بھول جاؤں
تجھے اس قدر چاھوں اپنی ذات بھول جاؤں
اٹھ کر کبھی جو ترے پاس سے چل دوں
جاتے جاتے خود کو ترے پاس بھول جاؤں
کیسے کہوں تجھے کہ کتنا چاھا تجھے
اگر کھنے پر تم کو آ وں تو الفاظ بھول جاؤں🫠🌙